18 نومبر 2012 - 20:30

امریکہ نے اپنا مکارانہ رویہ جاری رکھتے ہوئے پاکستان کی جانب سے طالبان کے لیڈروں کی رہائي کا خیرمقدم کیا ہے۔

ابنا: فارس نیوز کے مطابق پاکستان میں امریکی ناظم الامور رچرڈ ہاگلینڈ نے اسلام آباد یونیورسٹی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے بعض طالبان لیڈروں کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے شرط لگائي ہے کہ جب تک طالبان دہشتگردی ترک نہیں کرتے ان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ امریکہ نے ایسے عالم میں پاکستان کی جانب سے طالبان لیڈروں کی رہائي کا خیر مقدم کررہا ہے کہ اس نے افغانستان، امریکہ اور گوانتانامو میں اپنی جیلوں سے طالبان کے قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ طالبان نے بھی کہا ہےکہ جب  تک بیرونی افواج ملک سے نہیں نکل جاتیں ،کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات نہيں ہوسکتے۔ امریکی ناظم الامور نے یہ دعوی بھی کیا کہ افغانستان مین قیام امن اور سیکوریٹی کےحالات سدھارنا، امریکہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔واضح رہے حکومت کابل نے کہا ہےکہ پاکستان نے آٹھ طالبان رہنماؤں کو رہا کیا ہے جن میں طالبان کے سابق وزیر قانون نورالدین ترابی بھی شامل ہیں۔ خیال رہے امریکہ اور اسکے پٹھو ممالک گيارہ برسوں سے افغانستان پر قابض ہیں لیکن آج تک اس جنگ زدہ ملک میں امن قائم نہیں کرسکے بلکہ ان کی آمد کے بعد بدامنی اور منشیات کی پیداوار میں کئي گنا اضافہ ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔/110